سوره فاتحہ کی تفسیر کا ایک حصہ
کتاب سوره فاتحہ کی تفسیر کا ایک حصہ
مصنف: سید احمد الحسن
کتاب کا تعارف
کیا آپ جانتے ہیں کہ پورا قرآن سورۂ فاتحہ میں سمٹ آیا ہے اور قرآن کی باقی سورتیں اور آیات اسی سورت میں موجود حقائق کی تفصیل ہیں؟
کیا آپ سورۂ فاتحہ میں موجود اسرار سے آگاہ ہیں؟
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمیں روزانہ بار بار سورۂ فاتحہ کیوں پڑھنی چاہیے؟
کیا آپ نے اس کے معانی، تفسیر اور اس میں پوشیدہ حقائق پر توجہ دی ہے؟
کیا آپ نے کبھی اس نکتے پر غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو رحمان اور رحیم کی صفت سے کیوں بیان کیا ہے؟
عبارت «ربّ العالمین» میں جن عالَموں کا ذکر ہے، وہ کون سے عالَم ہیں؟
ہم صرف اللہ تعالیٰ سے ہی مدد کیسے طلب کریں جبکہ ہم روزمرہ زندگی میں ڈاکٹر وغیرہ جیسے اسباب و علل سے بھی واسطہ رکھتے ہیں؟
صراطِ مستقیم کیا ہے اور ہمیں اس کی ہدایت کیسے ملتی ہے؟
اس سورت میں جن پر نعمت کی گئی، جن پر غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے، ان کے مصادیق کون ہیں؟
اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت کے مراتب کیا ہیں؟
مالکِ یومِ الدین اور قیامتِ صغریٰ میں بادشاہت اور امام مہدی (علیہ السلام) کے قیام کے درمیان کیا تعلق ہے؟
قرآنِ کریم اور اس مبارک سورت کے حقائق کی معرفت حاصل کرنے اور مذکورہ سوالات کے جوابات پانے کے لیے کتاب «سورۂ فاتحہ کی تفسیر سے منتخب حصہ» ضرور مطالعہ کریں۔ ایک یا دو مرتبہ نہیں بلکہ درجنوں بار اسے پڑھیں، تاکہ آپ سورۂ فاتحہ کی تفسیر کے صرف ایک گوشے سے ہی آشنا ہو سکیں۔
کتاب «سوره فاتحہ کی تفسیر کا ایک حصہ» کا مخاطب کون ہے؟
سورۂ فاتحہ پر تفسیر لکھنے کی روایت شیعہ و سنی علما اور عرفا کے درمیان معروف اور مشہور ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ روزانہ اپنی فرض نمازوں میں متعدد مرتبہ اس سورت کی تلاوت کریں۔ لہٰذا اس کے معانی، تفسیر اور اس میں موجود حقائق کو سمجھنا بھی ان پر لازم ہے۔
حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اسلام اور اس کے بنیادی ترین فریضے یعنی نماز میں تحقیق کرنا چاہتا ہے، تو اسے سورۂ فاتحہ کی صحیح تفسیر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اس میں موجود بلند معارف کو پہچان سکے اور پھر اس الٰہی دین میں موجود اعلیٰ توحید تک پہنچ سکے؛ کیونکہ علم اور حکمت، حججِ الٰہی کی پہچان کا دوسرا راستہ ہیں۔ پس جو کوئی اسلامِ مہدوی کے علم و حکمت سے آشنا ہونا چاہتا ہے، وہ کتاب «سوره فاتحہ کی تفسیر کا ایک حصہ» کا مخاطب ہے۔
کتاب «سوره فاتحہ کی تفسیر کا ایک حصہ» کن حالات میں لکھی گئی؟
یہ کتاب 24 شوال 1424 قمری مطابق 19 /12/ 2003 کو تحریر کی گئی۔ علمِ تفسیر، اسلامی علوم میں سے ایک اہم ترین علم ہے، اور قرآن کی آیات کے حقائق سے پردہ اٹھانا اس شخص کی خصوصیت ہے جو خود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوئے نمائندوں سے وابستہ سمجھتا ہے۔
سید احمد الحسن (علیہ السلام) نے اپنی دوسری دلیل یعنی علم و حکمت کو متعدد کتب کے ذریعے ثابت فرمایا، جن میں سے ایک یہی کتاب ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں سورۂ فاتحہ کے قرآنی متشابہات کو بیان کیا گیا ہے اور ان سوالات کا قطعی جواب دیا گیا ہے جن پر ہزاروں سال سے مفسرین کے درمیان اختلاف چلا آ رہا تھا۔ آپ سورۂ فاتحہ کی ان کی تفسیر کا دوسرے مفسرین کی تفاسیر سے تقابل کر کے ان کی علمی برتری سے آگاہ ہو سکتے ہیں، امید ہے کہ یہ ہدایت کا سبب بنے۔
کتاب « سوره فاتحہ کی تفسیر کا ایک حصہ» کے مطالعے سے، ان شاء اللہ، آپ خدا کی معرفت پر مبنی ایک الٰہی جہان بینی تک پہنچ سکتے ہیں۔