اسرائیل
📜 ہم کتابِ اشعیا میں پڑھتے ہیں:
- اے جزیرَو! میری بات سنو، اور اے دور دراز قومو! کان لگاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے رحم ہی سے بلایا، اور میری ماں کے پیٹ ہی سے میرا نام ذکر فرمایا ہے۔ 2. اور اُس نے میرے منہ کو تیز تلوار کی مانند بنایا، اور مجھے اپنے ہاتھ کے سائے میں چھپا رکھا، اور مجھے چمکا ہوا تیر بنایا، اور اپنے ترکش میں مجھے پوشیدہ رکھا۔ 3. اور اُس نے مجھ سے کہا: اے اسرائیل! تو میرا بندہ ہے، جس کے ذریعے میں اپنی تمجید ظاہر کروں گا۔ 4. مگر میں نے کہا: میں نے بے فائدہ محنت کی، اور اپنی قوت کو باطل اور عبث میں صرف کیا؛ لیکن میرا حق اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور میری مزدوری میرے خدا کے پاس ہے۔ 5. اور اب اللہ تعالیٰ، جس نے مجھے رحم ہی سے اپنے بندے کے طور پر بنایا تاکہ میں یعقوب کو اُس کی طرف واپس لاؤں اور اسرائیل اُس کے پاس جمع کیے جائیں، فرماتا ہے (اور میں اللہ تعالیٰ کی نظر میں معزز ہوں اور میرا خدا ہی میری قوت ہے)۔ 6. پس وہ فرماتا ہے: یہ تو ایک چھوٹی بات ہے کہ تو میرا بندہ ہو کر یعقوب کے قبائل کو قائم کرے اور اسرائیل کے بچے ہوئے لوگوں کو واپس لائے، بلکہ میں تجھے قوموں کے لیے نور بناؤں گا تاکہ میری نجات زمین کے آخری کناروں تک پہنچے۔ 7. اللہ تعالیٰ، جو اسرائیل کا ولی اور قدوس ہے، اُس سے جو لوگوں کی نظر میں حقیر، قوموں کے نزدیک ناپسندیدہ اور حکمرانوں کا بندہ ہے، یوں فرماتا ہے: بادشاہ کھڑے ہو کر دیکھیں گے اور سردار سجدہ کریں گے، اس اللہ تعالیٰ کی خاطر جو امین ہے، اور اسرائیل کے قدوس کی وجہ سے جس نے تجھے منتخب کیا ہے۔ (اشعیا، باب 49)
✍️ نکات
🍃 1️⃣ اسرائیل وہی برگزیدہ بندہ ہے جس کا ذکر اشعیا باب 42 میں ہے۔ اشعیا 49:6 کے مطابق اسرائیل قوموں کے لیے نور ہوگا، اور اشعیا 42:6 میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ برگزیدہ بندہ قوموں کے لیے نور قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل (قوم کا عہد) ہوگا، (جیسا کہ اشعیا 49:8 میں آیا ہے)، اور یہی وصف برگزیدہ بندے کے بارے میں بھی بیان ہوا ہے۔ (اشعیا 49:6 ) اسرائیل کو حکم دیا جاتا ہے کہ قیدیوں سے کہے: باہر نکلو، اور جو اندھیروں میں ہیں اُن سے کہے: اپنے آپ کو ظاہر کرو، (جیسا کہ اشعیا 49:9 میں ہے)، اور یہی اوصاف برگزیدہ بندے کے بارے میں بھی پائے جاتے ہیں۔(اشعیا 49:7)
🍂 2️⃣ دوسری طرف اسرائیل یا برگزیدہ بندہ وہی شاخ ہے۔ جب ہم برگزیدہ بندے کے بارے میں بیان کردہ صفات (اشعیا 41:42) اور شاخ کے بارے میں بیان کردہ اوصاف کا تقابل کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (اشعیا 1:11) اور شاخ حضرت عیسیٰ (ع) نہیں ہے بلکہ اُن کا سفیر ہے، لہٰذا اسرائیل حضرت عیسیٰ مسیح (ع) کا سفیر ہے۔
🍃 3️⃣ اللہ تعالیٰ کی نجات زمین کے دور ترین کناروں تک پہنچے گی، یا دوسرے الفاظ میں وہ اللہ کی نجات کو پہنچائے گا، (جیسا کہ اشعیا 49:6 میں آیا ہے)۔ یہ آخری زمانے کے نجات دینے والے کی ایک نمایاں صفت ہے؛ وہی شخصیت جو بصرہ، عراق سے آتی ہے اور نجات کے لیے قوت رکھنے والی ہے، (جیسا کہ اشعیا 63:1 میں ہے)، اور وہی نجات دینے والا زاویے کا پتھر ہے جو اللہ کے گھر میں ہے، (جیسا کہ مزامیر 118:25 میں ذکر ہوا ہے)۔ اور ایسا پتھر صرف خانۂ خدا، یعنی کعبہ میں موجود ہے، جو رکنِ عراقی میں واقع ہے، اور یہ ایک الٰہی نجات دینے والے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
🌙 پس اسرائیل حضرت عیسیٰ مسیح (ع) کا سفیر ہے، جو عراق کے بصرہ سے آتا ہے، اور وہ حضرت عیسیٰ (ع) نہیں ہو سکتا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود ہے، اور وہ سید احمد الحسن ہے، جس نے خود کو بے شمار دلائل سے ثابت کیا ہے، اور وہی اسرائیل ہے، کیونکہ یہی درحقیقت احمد الحسن کی کنیت ہے۔ وہ کہتا ہے:
اہلِ بیت (ع) کی روایات میں پہلے مہدی (ع) کا نام، اس کی خصوصیات اور اس کی رہائش گاہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور یہ بھی کہ اس کا نام احمد ہے اور اس کی کنیت عبداللہ ہے، یعنی اسرائیل؛ یعنی لوگ مجبوراً اور اپنی مرضی کے خلاف اُسے اسرائیلی کہتے ہیں
متشابہات، جلد 4، سوال نمبر 144 کے جواب کا ایک حصہ