وه روایات جو وصیت کے صادر ہونے کی تاکید کرتی ہیں
2- (الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَشْعَرِيُّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَقْطِينٍ عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسْتَفَادِ أَبِي مُوسَى الضَّرِيرِ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ (ع) قَالَ: قُلْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّه ألَيْسَ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ (ع) كَاتِبَ الْوَصِيَّةِ ورَسُولُ اللَّه (ص) الْمُمْلِي عَلَيْه وجَبْرَئِيلُ والْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ (ع) شُهُودٌ. قَالَ: فَأَطْرَقَ طَوِيلاً ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا الْحَسَنِ قَدْ كَانَ مَا قُلْتَ ……)
اور اسی حوالے سے: حسین بن محمد الاشعری نے معلی بن محمد سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے حارث بن جعفر سے، انہوں نے علی بن اسماعیل بن یقطین سے، انہوں نے عیسیٰ بن مستفاد ابو موسیٰ ضریر سے روایت کی، انہوں نے کہا:مجھے موسیٰ بن جعفر (ع) نے حدیث بیان کی انہوں نے فرمایا:« میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا: کیا امیرالمؤمنین (ع) وصیت لکھنے والے نہ تھے، اور رسول اللہ (ص) اسے املا فرما رہے تھے، اور جبرئیل اور مقرب فرشتے اس پر گواہ تھے؟ راوی کہتا ہے: تو انہوں نے دیر تک سر جھکا لیا، پھر فرمایا: اے ابو الحسن، جیسا تم نے کہا تھا ویسا ہی تھا… »
(کافی، ج 1، ص 281)