مهدیین کتاب مقدس (انجیل) میں
اے مسیحیو! کیا تم جانتے ہو کہ یہ 25 اشخاص کون ہیں؟
مسیحی مفسرین 24 بزرگوں کی تفسیر میں آپس میں اختلاف رکھتے ہیں (اور اس بارے میں ویلیام مک ڈونلڈ، رابَرٹسن، تھامس کُک، آدام کلارک اور وکٹورینوس کی تفاسیر کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے)، لیکن ان شخصیات کا درست مفہوم کوئی بھی بیان نہ کر سکا، سوائے ان بزرگوں میں سے ایک کے جو آج ہمارے درمیان موجود ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ یوحنا کا رؤیا مستقبل کے بارے میں ہے، (ملاحظه کریں مکاشفہ 1:1)، اور اسی طرح تخت نشین اور 24 بزرگوں کے ذکر سے پہلے یہ کہا گیا ہے: (یہاں اوپر آ جا تاکہ میں تجھے وہ باتیں دکھاؤں جو اس کے بعد واقع ہونے والی ہیں۔) (مکاشفہ 4:1۔)
اسی طرح جب رسول یوحنا کو ان بزرگوں میں سے ایک نے مخاطب کیا اور اس سے سوال کیا گیا تو یوحنا اس بزرگ کو جواب دینے سے عاجز رہا اور اس بزرگ کو سرورم(اے میرے آقا) کہہ کر پکارا، (جیسا کہ مکاشفہ 7:13-14 میں آیا ہے)، اور کیا یہ اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ ان بزرگوں کا مقام کس قدر بلند اور عظیم ہے؟
اور یوحنا کے رؤیا باب 4 میں واضح ہے کہ تخت پر بیٹھنے والے کا مقام سب سے بلند اور مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے، اور تختوں پر بیٹھے ہوئے چوبیس بزرگ، مقام کے اعتبار سے، اس تخت نشین کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔
❓لیکن ان 25 شخصیات کی حقیقت ہمیں ان بزرگوں میں سے کسی ایک سے بہتر کون پہچنوا سکتا ہے؟
احمد الحسن، حضرت عیسیٰ مسیح کے سفیر، وعدہ دیے گئے تسلی دینے والے، اور وہی امین اور دانا غلام جس کی بشارت حضرت عیسیٰ نے دی تھی، اور جو ان بلند مرتبہ 24 بزرگوں میں سے ایک ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ رؤیا میں تخت نشین حضرت محمد، نبیِ اسلام ہیں، اور ان کے اردگرد بیٹھے ہوئے 24 بزرگ وہی خلفائے الٰہی ہیں جن کا ذکر حضرت محمد کی وصیت میں آیا ہے۔ پهر یہ 24 بزرگ وہی 12 امام اور 12 مہدی ہیں، جن میں پہلے مہدی کا نام احمد ہے، اور وہ آج ہمارے درمیان موجود ہے۔
درحقیقت یہ تخت نشین اور 24 بزرگ، اسماعیل کی اسی عظیم امت کی طرف اشارہ ہیں جس کی بشارت پیدائش کی کتاب میں دی گئی تھی، (جیسا کہ پیدائش 21:18 میں ذکر ہے۔)
احمد الحسن نے ہمارے ذہنوں میں موجود بہت سے پیچیدہ مسائل کے جوابات دیے اور کتابِ مقدس کے ذریعے اپنی حقانیت کو ثابت کیا۔
اے مسیحیو! کیا کوئی ہے جو اس کی مدد کرے؟