عیسائیوں کے لیے دعوت یمانی کی دلایل

پودے کی جڑوں سے ایک شاخ

📜 ہم کتابِ اشعیا میں پڑھتے ہیں:

  1. اور یسّی کے تنے سے ایک پودا نکلے گا، اور اس کی جڑوں سے ایک شاخ پھوٹے گی۔ 2. اور اللہ تعالیٰ کی روح اُس پر قرار پائے گی، یعنی حکمت اور فہم کی روح، مشورہ اور قوّت کی روح، معرفت اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی روح۔ 3.اور اُس کی خوشی اللہ تعالیٰ کے خوف میں ہوگی، اور وہ اپنی آنکھوں کے دیکھنے کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا، اور نہ ہی اپنے کانوں کے سننے کے مطابق سزا دے گا۔ 4.بلکہ وہ مسکینوں کا انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور زمین کے مظلوموں کے حق میں حق و راستی کے ساتھ حکم دے گا، اور وہ اپنی زبان کی لاٹھی سے دنیا کو مارے گا، اور اپنے ہونٹوں کی سانس سے شریروں کو ہلاک کرے گا۔ (اشعیا، باب 11)
  • شاخ کون ہے؟

✍️ نکات:

🍃 1️⃣ وہ شاخ جو پودے کی جڑوں سے پھوٹتی ہے، عدل کے ساتھ فیصلہ کرتی ہے، اور یسّیٰ کی نسل سے ہے اور اسی تسلسل میں یہوداہ سے تعلق رکھتی ہے، وہی برّہ ہے جو یہوداہ کی نسل سے ہے (جیسا کہ مکاشفہ 5:5-6 میں آیا ہے)، اور وہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے (جیسا کہ مکاشفہ 11:19 میں بیان ہوا ہے)، اور وہ حضرت عیسیٰ (ع) نہیں ہیں۔

🍂 2️⃣ جیسا کہ ہم کتابِ اشعیا باب 11 میں دیکھتے ہیں، یہاں آخری زمانے کے منجی(نجات دینے والے) کا ذکر ہے؛ وہ شخصیت جس پر اللہ تعالیٰ کی روح قرار پاتی ہے، (جیسا کہ اشعیا 11:2 میں ہے)، اور وہ مسکینوں کا عدل کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور زمین پر بسنے والے مظلوموں کے حق میں انصاف کے ساتھ حکم دیتا ہے، (جیسا کہ اشعیا 11:4 میں آیا ہے)۔ یعنی اس شخصیت کے ظہور کے وقت یہ سب کچھ واقع ہوتا ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ (ع) نے نہ لوگوں کے درمیان حکم جاری کیا اور نہ ہی باقاعدہ قضاوت کی، لہٰذا وہ مظلوموں کے لیے عدل یا انصاف قائم نہ کر سکے؛ پس وہ اشعیا باب 11 میں مذکور منجی کا مصداق نہیں ہو سکتے۔

🍃 3️⃣ اس شخصیت کے زمانے میں، جس کی صفات اشعیا باب 11 میں بیان ہوئی ہیں، دنیا اللہ کی معرفت سے بھر جاتی ہے؛ مالدار لوگ غریبوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں اور طاقتور کمزور کی مدد کرتا ہے، (جیسا کہ اشعیا 11:9-6 میں آیا ہے)۔ لیکن یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ (ع) کے زمانے میں واقع نہیں ہوا؛ نہ زمین اللہ کے معرفت سے بھر سکی، نہ مالداروں نے غریبوں کے ساتھ ہمدردی کی، نہ طاقتوروں نے کمزوروں کی مدد کی، اور نہ ہی زمین ظلم سے خالی ہوئی۔ یہ سب کسی محدود علاقے یا کسی چھوٹے سے شہر میں بھی پورا نہ ہوا۔

🍂 4️⃣ اس شخصیت کے زمانے میں یہوداہ اور اسرائیل کے بکھرے ہوئے لوگ جمع کیے جاتے ہیں، (جیسا کہ اشعیا 11:12 میں ذکر ہے)۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ (ع) نے انہیں جمع کیا یا ان کے ایمان کے ذریعے انہیں اکٹھا کیا، تب بھی یہ درست نہیں؛ کیونکہ حضرت عیسیٰ (ع) کی دعوت، ان کے اٹھائے جانے تک، تبلیغ کے اعتبار سے چند محدود شہروں سے آگے نہ بڑھ سکی، تو ایمان اور اعتقاد لانا تو بہت دُور کی بات ہے! جبکہ متن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ یہ شخصیت یہوداہ کے بکھرے ہوئے لوگوں کو زمین کے گوشے گوشے سے جمع کرے گی۔ دوسرے لفظوں میں متن کا مفہوم یہ ہے کہ اس شخصیت یا منجی کے ظہور کے وقت، دنیا کی تقریباً تمام ریاستوں سے، خصوصاً دور دراز علاقوں سے، لوگ اس کے ظہور کی جگہ کی طرف آ کر اس پر ایمان لائیں گے۔

🍃 5️⃣ شاخ وہی تسلی دینے والا یا حضرت عیسیٰ مسیح کا سفیر ہے۔

🌙 پس یہ ممکن نہیں کہ حضرت عیسیٰ (ع) آخری زمانے کی شاخ کا مصداق ہوں۔ وہ درحقیقت نبیِ اسلام حضرت محمد (ص) کی وصیت میں مذکور پہلے مہدی ہیں، جو نہال کی جڑوں سے، یعنی امام محمد بن الحسن (ع) سے نکلتے ہیں؛ کیونکہ امام محمد بن الحسن (ع) کی والدہ، یسّیٰ کی نسل سے تھیں۔

  • ممکن ہے یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ (ع) اپنی دوسری آمد میں اس متن کو محقق کریں گے:

✍️ جواب: یہ نہیں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی روح اُن پر قرار پاتی ہے، پھر وہ چلے جاتے ہیں، اور پھر چند ہزار سال بعد واپس آ کر دنیا میں عدل قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی آیات موجود ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آخری زمانے کے منجی کی ایک زیادہ واضح تصویر ہمارے سامنے رکھتی ہیں، اس کی رہائش گاہ سے لے کر اس کے القاب تک، اور یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ (ع) پر منطبق نہیں ہو سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے