دسته‌بندی نشده, سید احمد الحسن کی سوانح حیات

امام احمد الحسن(ع) کی سیرت

سید احمد الحسن(ع)کی مختصر سوانح اور ان کی دعوت کا مختصر تعارف

مختصر تعارف

آپ(ع) پہلے مہدی، امام مہدی حضرت محمد بن الحسن(ع) کے وصی اور رسول ہیں، جن کا ذکر رسول اللہ(ص) کی وفات کی رات والی وصیت میں آیا ہے۔

ان کا نام امام احمد بن سید اسماعیل بن سید صالح بن سید حسین بن سید سلمان بن امام محمد بن امام حسن بن امام علی بن امام محمد بن امام علی بن امام موسیٰ بن امام جعفر بن امام محمد بن امام علی بن امام حسین بن امام علی بن ابی طالب(ع) ہے۔علیہم الصلاۃ والسلام۔

(امام احمد الحسن(ع) کے نسب کی تفصیل کے لیے امام احمد الحسن(ع) کے شجرۂ نسب

اور سید محسن صالح حسین سلمان، رئیسِ عشیرۂ آل مہدی (جو امام احمد الحسنؑ کے چچا ہیں)، کی آواز اور تصویر کے ساتھ موجود گواہی ملاحظہ فرمائیں، جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کا نسب امام مہدی(ع) تک پہنچتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل ربط ملاحظہ فرمائیں۔)

آپ(ع) عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں رہتے تھے۔ آپ نے اپنی جامعاتی تعلیم مکمل کی اور سول انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد دینی علوم کے حصول کی غرض سے نجفِ اشرف منتقل ہوئے اور وہیں سکونت اختیار کی۔حوزۂ نجف کے درسی حلقوں اور نصابِ تعلیم کا جائزہ لینے کے بعد آپ نے پایا کہ تدریس کا معیار پست ہے، (کم از کم آپ کے نزدیک)۔ نیز آپ نے یہ بھی دیکھا کہ نصاب میں ایک بڑی کمی موجود ہے؛ کیونکہ وہاں عربی زبان، منطق، فلسفہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام (عقائد) اور فقہ (شرعی احکام) تو پڑھائے جاتے ہیں، لیکن قرآنِ کریم اور سنتِ مطہرہ (رسول اللہ محمد (ص) اور ائمہ(ع) کی احادیث) بالکل نہیں پڑھائی جاتیں، اور نہ ہی ان الٰہی اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے جن سے ایک مؤمن کا آراستہ ہونا ضروری ہے۔اسی لیے آپ نے فیصلہ کیا کہ اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو کر کسی کی مدد لیے بغیر خود ہی ان کے علوم کا مطالعہ کریں۔ البتہ آپ ان کے درمیان رہتے تھے، بعض علماء سے رابطہ رکھتے تھے اور وہ بھی آپ سے رابطہ رکھتے تھے۔آپ نے حوزہ میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، بلکہ آپ نجف کی حوزۂ علمیہ میں اور اس کے علماء کے درمیان اسی طرح موجود تھے جیسے حضرت مریم(ع) ہیکل میں یہود کے علماء کے درمیان تھیں۔رہا آپ کے حوزۂ علمیہ نجف میں داخل ہونے کا سبب، تو وہ یہ تھا کہ آپ نے امام مہدی(ع) کو خواب میں دیکھا، اور آپ(ع) نے اس خواب میں انہیں حکم دیا کہ وہ نجف کی حوزۂ علمیہ جائیں، نیز خواب ہی میں انہیں ان تمام واقعات سے آگاہ کیا جو بعد میں ان کے ساتھ پیش آنے والے تھے، اور پھر حقیقت میں وہ سب کچھ ویسے ہی پیش آیا جیسا امام(ع) نے خواب میں انہیں بتایا تھا۔

لیکن سن 1999 سے کئی سال پہلے ہی سید احمد(ع) اپنے والد، امام مہدی (ع)، سے عالمِ شہادت(رویا) میں ملاقات کرتے تھے، اور آپ(ع) کے علم سے فیض حاصل کرتے اور آپ(ع) کے نقشِ قدم پر چلتے تھے۔

اس دنیا میں آپ(ع) کی امام مہدی (ع) سے پہلی ملاقات، امامین ہادی اور عسکری (علیہما السلام) کے روضۂ مبارک میں ہوئی۔ اس پہلی ملاقات کے بعد امام(ع) سے آپ(ع) کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان ملاقاتوں میں امام(ع) نے آپ پر بہت سے امور واضح فرمائے، لیکن کسی خاص جماعت یا کسی معین شخص تک کوئی پیغام پہنچانے (تبلیغ) کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ ہدایات آپ(ع) کی اپنی ذات سے متعلق تھیں، جن کا مقصد آپ(ع) کی تربیت کرنا اور آپ(ع) کو الٰہی اخلاقِ حسنہ کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔امام(ع) نے اپنے فضل سے آپ(ع) کو علم و معرفت کا کچھ حصہ بھی عطا فرمایا، اور نجف کی حوزۂ علمیہ میں موجود بڑے بڑے انحرافات سے آگاہ کیا، خواہ وہ علمی انحرافات ہوں یا عملی، سماجی، معاشی اور سیاسی انحرافات، یا پھر ایسے افراد کے انحرافات جو اس حوزۂ علمیہ کی نمایاں شخصیات شمار ہوتے تھے۔یہ مرحلہ سید احمد الحسن(ع) کے لیے نہایت دردناک تھا، کیونکہ اس کے ذریعے اس آخری قلعے کا تصور بھی منہدم ہو گیا جسے آپ(ع) دنیا میں حق کی نمائندہ آخری پناہ گاہ سمجھتے تھے۔

سن 1999 کے آخر میں، امام مہدی (ع) کے حکم سے، آپ(ع) نے حوزۂ علمیہ میں موجود باطل پر سخت تنقید کا آغاز کیا، اور علمی، عملی اور مالی اصلاح کا مطالبہ کیا۔تنقید اور اصلاح کے مطالبے کا یہ سلسلہ سن 2002ء تک جاری رہا۔ پھر امام مہدی(ع) نے سید احمد الحسن(ع) کو حکم دیا کہ لوگوں کو یہ اطلاع دیں کہ وہ امام مہدی(ع) کے رسول ہیں۔چنانچہ سن 2002 کے ساتویں مہینے، جو 1423 ہجری کے ماہ جمادی الاولیٰ کے مطابق تھا، نجفِ اشرف میں لوگوں کو سید احمد الحسن(ع) پر ایمان لانے کی دعوت کا آغاز ہوا۔

کیونکہ آپ(ع) کے والد، امام مہدی(ع) ، نے آپ(ع) کو حکم دیا تھا کہ تمام لوگوں کو اس حیثیت سے دعوت دیں کہ آپ(ع) وہی شخصیت ہیں جن کا ذکر رسول اللہ(ص) نے اپنی وفات کی رات والی وصیت میں فرمایا تھا۔ چنانچہ سید احمد الحسن(ع) نے لوگوں کو دعوت دینا شروع کر دی۔

اس کے بعد عمومی طور پر مہدوی دعوت، اور بالخصوص امام احمد الحسن(ع) اور مؤمنین کو بہت سے واقعات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ذیل میں ان میں سے صرف چند اہم اور فیصلہ کن مراحل ذکر کیے جاتے ہیں:

2002

سن 2002 میں دعوت کے اعلان کا آغاز

دعوت کے اعلان کا آغاز سن 2002 میں ہوا۔دعوت کے اعلان کے بعد صدام حکومت نے امام احمد الحسن(ع) کا تعاقب شروع کر دیا، جس کے باعث آپ(ع) کو چند ماہ تک ان کی نظروں سے اوجھل رہنا پڑا۔ اس عرصے میں مؤمنین میں سے، سوائے شیخ ناظم (حفظہ اللہ) کے، کسی نے بھی آپ(ع) سے ملاقات نہیں کی۔ شیخ ناظم نے اس وقت امام احمد الحسن(ع) تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ مشقت برداشت کی۔

2003

سن 2003 میں بعثی حکومت کے سقوط کے بعد

سن 2003 میں بعثی حکومت کے سقوط کے کچھ عرصے بعد دعوت مہدوی نے نجف، بصرہ، عمارہ، ناصریہ، بغداد، کربلا اور عراق کے دیگر صوبوں میں دوبارہ سرگرمی اختیار کر لی۔اس کے بعد شیخ ناظم عقیلی، حسین الجبوری (ابو سجاد) کے ہمراہ، امام احمد الحسن(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور پھر آپ(ع) ان کے ساتھ اس وقت نجفِ اشرف تشریف لے گئے۔

اللہ کے فضل سے، انصار میں سے ایک، شیخ حبیب المختار (حفظہ اللہ)، جو شیخ حازم المختار کے والد ہیں، اس کے پاس نجف کے علاقے حی النصر میں ایک گھر تھا، اور اس کے ساتھ ایک برّانی (مہمان خانہ/دیوان) بھی تھا جو ان کے گھر سے الگ تھا۔ انہوں نے اس وقت اسے دعوت کے کام کے لیے وقف کر دیا۔امام احمد الحسن(ع) نے اس جگہ کو دعوت کا دفتر بنا لیا، جہاں تمام لوگ، خواہ انصار ہوں، حوزہ کے طالب علم ہوں یا دیگر افراد، آپ(ع) سے ملاقات کرتے تھے۔اس دوران آپ(ع) مسجدِ سہلہ سے متصل ایک گھر میں رہتے تھے، اور دفتر (برّانی) میں دیر تک موجود رہتے تھے ، جہاں لوگوں اور مؤمنین سے ملاقات کرتے تھے۔ اسی طرح آپ(ع) مختلف حسینیوں میں تشریف لے جاتے، وہاں نماز ادا کرتے، نمازِ جمعہ قائم کرتے، اور حسینیوں میں مؤمنین اور سوال کرنے والوں سے ملاقات فرماتے تھے۔

2006

مجرمانہ اور غیر ذمہ دارانہ فتووں کے باعث!!

اس کے بعد دین کے دعویدار بعض حلقوں کی مجرمانہ اور غیر ذمہ دارانہ فتووں، نیز اس وقت عراق میں بعض بااثر افراد کی سرگرمیوں کے باعث، امام احمد الحسن(ع) پر حالات کسی حد تک تنگ ہونے لگے۔چنانچہ سن 2006میں آپ(ع) نے بعض انصار، جن میں شیخ عیدان ابو حسین بھی شامل تھے، کو ایک محفوظ جگہ تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی تاکہ آپ(ع) وہاں سکونت اختیار کر سکیں۔ انہوں نے نجف کے مضافات میں ایک زرعی زمین تلاش کی، جسے آپ(ع) نے اس وقت خرید لیا، اور اس پر ایک گھر تعمیر کیا تاکہ خود اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وہاں رہ سکیں۔چنانچہ سن 2006 کے آخر میں آپ(ع) وہاں سکونت اختیار کر کے عام انصار اور عام لوگوں سے الگ ہو گئے، کیونکہ اس کے بعد آپ(ع) کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ مسلسل دفتر یا برّانی میں موجود رہیں تاکہ وہاں انصار اور عام لوگوں سے ملاقات کر سکیں۔اور پہلے کی طرح حسینیوں میں نمازِ جمعہ قائم کرنا بھی آپ(ع) کے لیے ممکن نہ رہا۔ اس طرح سن 2006 کے آخر میں دعوت کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا، اور وہ یہ تھا کہ عام مؤمنین سے پہلے کی طرح آمنے سامنے ملاقات اور براہِ راست گفتگو نہیں ہوتی تھی۔اور امام احمد الحسن(ع) نے اپنی خبریں اور ہدایات صرف مؤمنین میں سے ثقہ افراد کے ذریعے پہنچانے پر اکتفا فرمایا، جو آپ(ع) کے گھر کا مقام جانتے تھے اور آپ(ع) سے رابطہ کرتے تھے اور اس وقت آپ(ع) کی زیارت کرتے تھے۔ ان میں سید علاء المیالی، حسین الجبوری (ابو سجاد)، ان کے بھائی محمد (حفظہ اللہ)، شیخ حیدر الزیادی، شیخ محمد الحریشاوی، اور اس وقت کے دیگر ثقہ مؤمنین شامل تھے، اس کے علاوہ آپ(ع) اس وقت نجف میں موجود حوزۂ مہدویہ کے مرکز اور دفتر سے بھی رابطے میں رہتے تھے اور انہیں مسلسل ہدایات دیتے تھے۔

2007

اپنا گھر چھوڑنا

امام احمد الحسن(ع) اس گھر میں سن 2007 کے آغاز تک مقیم رہے، یہاں تک کہ آپ(ع) اس گھر کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ آپ(ع) کے اپنی زوجہ اور بچوں کے ساتھ گھر چھوڑنے کے صرف چند گھنٹے بعد ایک بڑی فوجی قوت نے اس گھر پر حملہ کر دیا۔ظاہر ہے کہ اس حملے کا نہ کوئی قانونی جواز تھا اور نہ ہی کوئی منطقی وجہ، بلکہ یہ اس وقت کے بعض بااثر گروہوں کی محض ایک کارروائی تھی۔افسوس کہ انہوں نے امام احمد الحسن(ع) کے ایک پڑوسی کو گرفتار کر لیا اور اسے نہایت وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، حالانکہ آپ(ع) کے پڑوسیوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آپ(ع) کون ہیں۔ آپ(ع) ان کے درمیان رہتے تھے، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ آپ(ع) کون ہیں۔اس طرح آپ(ع) کی صورتِ حال بدستور غیر محفوظ رہی اور عام مؤمنین اور لوگوں سے رابطے کے لیے موزوں نہ رہی، خصوصاً محرم سن 1429 ہجری (مطابق سن 2008) کے مشہور واقعات کے بعد۔اور صورتِ حال یہی رہی کہ صرف بعض ثقہ افراد کے ذریعے، اور دعوت کی انٹرنیٹ ویب سائٹس، حوزہ کے مرکز، اور اس دفتر کے ذریعے رابطہ رکھا جاتا تھا جو جب بھی موقع ملتا کھولا جاتا تھا۔

اور یہی صورتِ حال سن 2006 کے آخر سے لے کر سن 2012 کے آخر تک برقرار رہی۔ پھر جب چھ سال گزر گئے، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ارادے کے مطابق، اللہ نے اپنے فضل و کرم سے کشادگی عطا فرمائی، اور بعض مؤمنین اور ان کی مبارک کوششوں کے ذریعے امام احمد الحسن(ع) کے لیے کسی حد تک ایک محفوظ جگہ منتقل ہونے کا امکان فراہم کر دیا۔

2012

نیا مرحلہ

اس طرح دعوت کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا، اور آپ(ع) کے لیے فیس بک پر سماجی رابطے کا صفحہ (لنک)، اور ایکس کے پلیٹ فارم پر، جو پہلے ٹویٹر تھا، (لنک) کھولنا ممکن ہو گیا، تاکہ آپ(ع) دوبارہ اس “سماجی دیوان” میں لوگوں کے درمیان موجود رہ سکیں، اور ان صفحات کے ذریعے عام مؤمنین اور لوگوں سے گفتگو کریں۔اس طرح آپ(ع) دوبارہ لوگوں کے درمیان آ گئے، ان کی باتیں سنتے، ان کی لکھی ہوئی باتیں پڑھتے، ان سے گفتگو کرتے، اور اس مبارک سماجی رابطے کے صفحے کے ذریعے ان سے بات کرتے تھے۔والحمد للہ رب العالمین۔

اور اسی مرحلے میں امام احمد الحسن(ع) کی موجودگی اور رابطہ بھی اس مبارک دعوت کے صوتی(آوازی) گفتگو کے کمروں (پال ٹاک) کے ذریعے، نیز (المنقذ العالمی) سیٹلائٹ چینل، اور (المنقذ العالمی) ریڈیو، ڈیٹرائٹ، کے ذریعے ہونے لگا۔ اور ٹیلی گرام پروگرام(لنک) میں «الدعوة المهدوية» گروپ کھولا گیا ۔والحمد للہ رب العالمین۔

سن 1999 سے سن 2002 کے درمیان حوزۂ علمیہ کی اصلاح کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات

حوزۂ علمیہ میں اصلاح کی کوشش دعوت کے آغاز میں، اور اس کے علانیہ ہونے سے پہلے کی گئی، اور وہ تین بنیادی محاذوں پر مرکوز تھی:

علمی اصلاح: اس کے لیے آپ(ع) نے دو ذرائع اختیار کیے:

پہلا: «الطريق إلى الله» کے نام سے ایک کتاب تحریر کرنا۔ اس کتاب نے اچھا اثر چھوڑا، اور شیخ محمد الیعقوبی بھی اس سے متاثر ہوئے۔ وہ اس سے بہت متاثر تھے اور اسے دوبارہ شائع کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ اس وقت شیخ محمد الیعقوبی کے بعض پیروکار شیوخ اور سادات نے امام احمد(ع) کو اس کی اطلاع دی تھی۔

دوسرا ذریعہ: طالب علم اور علماء کے ساتھ موجود علمی خلل کے بارے میں گفتگو اور بحث و مباحثہ کرنا تھا۔ اس کام میں ان لوگوں نے آپ(ع) کی مدد کی جو آپ(ع) پر ایمان رکھتے تھے، نیز بعض وہ لوگ بھی جو آپ(ع) کی گفتگو اور اس حق سے متاثر ہوئے تھے جسے آپ(ع) بیان کرتے تھے۔

عملی اصلاح: اس کا تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے تھا۔ مثال کے طور پر، جب طاغیہ صدام نے اپنے نجس خون سے قرآن لکھ کر اسے ناپاک کیا، جبکہ تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ خون نجس ہے اور قرآن کو ناپاک کرنا حرام ہے، تو آپ(ع) نے اس وقت مطالبہ کیا کہ علماء کم از کم اس کے خلاف ایک بیان ہی جاری کریں، لیکن انہوں نے تقیہ کا عذر پیش کیا۔ اس طرح ان کی جانیں ان کے نزدیک قرآن سے زیادہ عزیز تھیں۔ اگر وہ اس بات پر ایمان رکھتے کہ اللہ کے سوا کوئی قوت نہیں، تو ضرور موقف اختیار کرتے اور یقین رکھتے کہ اللہ ان کا دفاع کرے گا۔ اور آپ(ع) نے خود اس بارے میں موقف اختیار کیا، اور طاغیہ صدام کے اس خبیث فعل کی مذمت کی۔ آپ(ع) نے متعدد مرتبہ، اور مختلف مجالس میں اپنے خطبات کے دوران فرمایا کہ صدام نے اپنے نجس خون سے قرآن لکھ کر اپنے ہاتھوں اپنی موت لکھ دی ہے۔لیکن آپ(ع) کی مدد کرنے کے بجائے وہ آپ(ع) سے دور ہونے لگے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے مؤدبانہ انداز میں آپ(ع) کو اپنے پاس سے چلے جانے کے لیے کہہ دیا، کیونکہ اسے خوف تھا کہ اگر صدام اسے گرفتار کر کے قتل کرے گا تو اسے بھی آپ(ع) کے ساتھ قتل کر دے گا، اس لیے کہ اس نے طاغیہ صدام کے بارے میں آپ(ع) کی باتیں سنی تھیں۔بہرحال، اس میدان میں، یعنی عملی اصلاح کے سلسلے میں، آپ(ع) کو ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔

مالی اصلاح: اس کا تعلق صدقات کے اموال کو فقراء پر خرچ کرنے سے تھا۔ اور دعوت کے علانیہ ہونے سے پہلے یہی آخری مرحلہ تھا۔ اس معاملے میں حوزۂ علمیہ کے طالب علم میں سے بہت سے لوگوں نے آپ(ع) کی نصرت کی۔ ان میں سے بہت ہی کم نے فقراء کی خاطر آپ(ع) کا ساتھ دیا، جبکہ اکثر نے اس لیے کہ وہ خود بھی اس مالی عطا میں امتیازی سلوک کا شکار تھے جو حوزۂ علمیہ میں روا رکھا جاتا تھا۔

اور اس میدان میں کچھ معمولی نتائج حاصل ہوئے، جب امام احمد(ع) نے خود، یا آپ(ع) کے بعض انصار، جو حوزۂ علمیہ کے طالب علم میں سے تھے، نجف کی دینی مرجعیتوں کے ساتھ طویل اور دشوار مذاکرات کیے۔ ان مرجعیتوں میں سیستانی، محمد سعید الحکیم، اور محمد اسحاق الفیاض شامل تھے۔اور ان میں سے سب سے زیادہ زبانی طور پر مثبت جواب دینے والے شیخ یعقوبی تھے۔ انہوں نے بحث و تکرار نہیں کی، بلکہ غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: “ہمیں مالی اصلاح کی ضرورت ہے۔” یہ اس وقت کی بات ہے جب امام احمد(ع) کے ایک مؤمن نے انہیں امیر المؤمنین علیؑ کی مالی پالیسی کی یاد دہانی کرائی تھی۔

بہرحال، ان تمام محاذوں میں فوری نتائج بہت معمولی تھے، اور وہ لوگ آگے بڑھنے کے لیے قدم اٹھانا نہیں چاہتے تھے۔

اس عرصے میں نجف اور نجف سے باہر معروف مراجع کے ساتھ آپ(ع) کا تعلق

امام احمد الحسن(ع) حوزۂ علمیہ کے علماء اور طالب علم کی توجہ کا مرکز تھے۔ وہ آپ(ع) کا احترام اور قدر کرتے تھے، اور آپ(ع) رعب، وقار اور ہیبت کے مالک تھے، جس کی گواہی سب دیتے تھے۔ وہ آپ(ع) کی سنجیدگی، جرأت، اللہ کی راہ میں آپ(ع) کی ثابت قدمی، اور حوزۂ علمیہ میں پھیلے ہوئے فساد کی اصلاح کی کوشش میں آپ(ع) کی تعمیری تنقید سے متاثر تھے۔پھر جب آپ(ع) نے انہیں یہ بتایا کہ آپ(ع) اپنے والد، امام مہدی(ع)، کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، تو صورتِ حال بدل گئی، اور وہ آپ(ع) کے بارے میں کہنے لگے: “جادوگر ہے” اور “جھوٹا ہے” (اللہ آپ(ع) کو اس سے پاک رکھے)۔ پھر بعض مراجع نے آپ(ع) کے قتل کا فتویٰ بھی دے دیا۔

صدام حکومت کی طرف سے آپ(ع) کو گرفتار کرنے کی کوششیں

صدام نے بعض ایسے لوگوں کو گرفتار کیا جن کا امام احمد(ع)سے تعلق تھا، اگرچہ وہ آپ(ع) پر ایمان رکھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ بلکہ دعوت کے اعلان کے بعد حوزۂ علمیہ کے کئی طالب علم کو بھی گرفتار کیا گیا، حالانکہ ان کا آپ(ع) سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان سے صرف اس غرض سے تفتیش کی جاتی تھی کہ کسی طرح امام احمد(ع) تک پہنچ کر آپ(ع) کو گرفتار کر لیا جائے۔اور تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے صدام اور اس کے لشکر کو رسوا کیا، اور انہیں ناکام و نامراد واپس لوٹا دیا۔

صدام کو گرانے والی جنگ کے بارے میں امام احمد الحسن(ع) کی رائے

جب ملعون صدام نے قرآنِ کریم کی بے حرمتی کی، اور اسے اپنے نجس خون سے لکھا، پھر اپنی منحوس سالگرہ منائی، تو امام احمد الحسن(ع) نے فرمایا:”یہ صدامِ ملعون کی آخری سالگرہ ہے، اور اس سال کے بعد وہ اپنی اس منحوس سالگرہ کا جشن نہیں منائے گا، کیونکہ اس نے اللہ کی حرمت کو پامال کیا ہے، اور اللہ کی سلطنت میں اس کے مقابل کھڑا ہوا ہے، لہٰذا اللہ اسے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔”(حدیثِ قدسی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: “ظالم ایک تلوار ہے جس کے ذریعے میں انتقام لیتا ہوں، اور پھر اسی سے انتقام لیتا ہوں۔” پس صدام ایک طاغیہ تھا، اور اسے اللہ کی طرف سے تلوار کے ذریعے اس کا بدلہ ملا۔)

امام احمد الحسن(ع) کا عراقی حکومت کے ساتھ تعلق، اور دعوت کو بدنام کرنے اور اسے مٹا دینے کے لیے دینی شخصیات اور حکومت کی ابلاغی مہم

امام مہدی(ع) کے انصار نے کسی بھی صورت میں انتخابات یا حکومت میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ امام احمد الحسن(ع) لوگوں کی طرف سے کسی کو منصب دیے جانے پر ایمان نہیں رکھتے، بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے انبیاء اور اوصیاء(ع) کے مقرر کیے جانے پر ایمان رکھتے ہیں۔

اگرچہ لوگوں نے اسے ناپسند کیا، لیکن وقتاً فوقتاً حکومت، انصار کی عبادت گاہوں میں سے کسی ایک کو منہدم کر دیتی تھی، اور ان میں سے متعدد افراد کو گرفتار کر لیتی تھی۔ اس کے بعد نجف میں انصار کے دفتر کو بھی بند کر دیا گیا، اور واقعۂ «الزرگہ» سے پہلے نجف میں انصار کی درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والے انصار میں سید حسن الحمامی بھی شامل تھے، جو نجف کے بڑے علماء میں سے تھے، اور مرحوم مرجع دینی سید محمد علی الحمامی کے فرزند تھے۔

جب انہوں نے کربلا اور نجف میں انصار کی عبادت گاہوں کو منہدم کیا، اور نجف میں انصار کے دفتر کو بند کیا، تو ذرائع ابلاغ کو ان واقعات کی فلم بندی کرنے یا انہیں نشر کرنے سے روک دیا۔پھر جب واقعۂ «الزرگہ» پیش آیا، اور بعض ذرائع ابلاغ نے عبادت گاہوں کے منہدم کیے جانے، دفتر بند کیے جانے، اور انصار کی گرفتاریوں کی خبریں نشر کیں، تو انہوں نے اپنی ان جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے واقعۂ «الزرگہ» کا الزام انصار پر لگا دیا، تاکہ یہ کہہ سکیں کہ اس سے پہلے ہم نے انصار کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ اسی کے مستحق تھے۔ اور الحمد للہ، حقیقت آشکار ہو گئی، اور ان کے جرائم بھی واضح ہو گئے۔

لیکن اس کے باوجود حکومت انصار میں سے بعض افراد کو گرفتار کرتی رہی، اور آج تک نجف میں انصار کا دفتر بند ہے، اور حکومت انہیں اسے دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دیتی۔

مجلسِ اعلیٰ اور اس کی ذیلی جماعتوں کے بارے میں سن 1428 ہجری قمری کے ذی الحجہ کے مہینے میں نجف میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی، اور اس کانفرنس میں بعض مراجع کے وکلاء نے اس دعوت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ بات سیٹلائٹ چینلز پر بھی نشر ہوئی۔ اس مطالبے کے چند ہی دن بعد نجف میں ظالم حکام نے انصار پر حملہ کیا، انہیں گرفتار کیا، اور دفتر بند کر دیا۔اسی طرح دینی شخصیات نے امام احمد الحسن(ع) اور آپ(ع) کی دعوت کو بدنام کرنے کے لیے ایک بڑی ابلاغی مہم شروع کر دی۔اس بہتان اور جھوٹ کی ایک مثال، جس کا امام احمد الحسن(ع) کو ذاتی طور پر سامنا کرنا پڑا، یہ ہے کہ چند سال پہلے ایرانی سیٹلائٹ چینل الکوثر پر «المهدي الموعود» نامی پروگرام میں علی الکورانی کو مدعو کیا گیا۔ اس پروگرام کا تقریباً پورا حصہ امام احمد الحسن(ع) اور آپ(ع) کی دعوت کو بدنام کرنے کے لیے وقف تھا۔علی الکورانی نے ان باتوں میں یہ بھی کہا کہ: “احمد الحسن کہتا ہے کہ اس نے اپنی بہن کا نکاح امام مہدی سے کر دیا ہے۔” حالانکہ وہ یقین کے ساتھ جانتا تھا کہ امام احمد الحسن(ع) نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، لیکن اپنی عمر رسیدگی اور سر پر عمامہ ہونے کے باوجود اسے نہ جھوٹ بولنے میں شرم آئی اور نہ بہتان لگانے میں۔اسی طرح العراقیہ ٹی وی چینل پر، (جو عراقی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والا ایک ابلاغی چینل ہے، حکومت کا مؤقف پیش کرتا ہے اور اس کا دفاع کرتا ہے)، ایک خبروں کے پروگرام میں، (واقعۂ الزرگہ کے چند دن بعد، جبکہ یہ واضح ہو چکا تھا کہ امام احمد الحسن(ع) کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں)، ایک شخص سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا گیا، اور اس شخص نے امام احمد الحسن(ع) کے قتل کو واجب قرار دیا۔ نہ پروگرام کے میزبان نے، اور نہ ہی حکومت کے ماتحت اس چینل نے اس بات پر کوئی اعتراض کیا۔ یہ ان کی اس بات پر رضامندی کی دلیل تھی، اور اس وقت ان کے ارادے واضح طور پر ظاہر ہو گئے تھے، جنہیں بعد میں انہوں نے عملاً نافذ بھی کیا۔

اس کے باوجود، امام مہدی(ع) کے انصار نے کبھی بھی حکومت کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے، حالانکہ عراقی حکومت کی فورسز نے نجف اور کربلا میں انصار کی عبادت گاہوں پر حملہ کیا اور انہیں منہدم کر دیا، نجف میں ان کے دفتر کو بند کر دیا، اور انصار کو گرفتار کیا، بلکہ گرفتاریاں مسلسل جاری رکھیں۔پھر محرم سن 1429 ہجری(2008) کے واقعات پیش آئے، جن میں انصار کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی، اور بہت سے افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

امام احمد الحسن(ع) ایک سائل کے جواب میں فرماتے ہیں:

“حیدر مشتت نے بھی ہمارے ساتھ مباہلہ کیا تھا، پس دیکھ لو اس کے ساتھ کیا ہوا۔ عبد العزیز الحکیم اور اس کے بیٹے نے بھی ہم پر ظلم کیا، پس دیکھ لو ان کے ساتھ کیا ہوا۔ مرجعیت کے لشکر اور مقتدی کے لشکر نے بھی ہم پر ظلم کیا، پس دیکھ لو ان کے ساتھ کیا ہوا۔ اور اللہ نے ان سب کو زیادہ مہلت نہیں دی، بلکہ صرف چند ہی دن۔حیدر مشتت دیوانوں جیسی حرکتیں کرنے لگا، پھر اپنی نادان حرکات کی وجہ سے ایران میں جیل میں ڈال دیا گیا، اور اس کے بعد عراق میں ہلاک ہو گیا، جبکہ اس نے اپنے کام کا خاتمہ اپنے سرکاری اخبار میں یہ اعلان شائع کر کے کیا کہ میں حق پر نہیں ہوں۔رہا عبد العزیز اور اس کا بیٹا، تو جب انہوں نے دو سال پہلے ہمارے دفتر پر حملہ کیا، تو چند ہی دن گزرے تھے کہ امریکیوں نے اپنے ایجنٹ عمار، عبد العزیز کے بیٹے، کی توہین کی اور اسے جیل میں ڈال دیا۔ اگر وہ ان کے خلاف ہوتا تو یہ اس کے لیے باعثِ فخر تھا، لیکن وہ ان کے سامنے پوری طرح جھکا ہوا تھا اور ان کے ساتھ مکمل صلح اور موافقت رکھتا تھا۔ اس کے بعد عبد العزیز وائٹ ہاؤس گیا اور اللہ کے دشمن بش کے ساتھ نہایت گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔ یہ ایسا طرزِ عمل ہے جو عقل کے فقدان اور دنیا کی رسوائی پر دلالت کرتا ہے۔اور ایک سال پہلے، یعنی محرم کے واقعات سے پہلے، سب لوگ ہمارے خلاف اکٹھے ہو گئے۔ عبد العزیز الحکیم اور اس کے بیٹے نے دفتر کھلنے کے چند ہی دن بعد اسے بند کر دیا، اور امیر المؤمنینؑ کے روضے کے قریب ہمارے بہت سے انصار کو ظلم و زیادتی کے ساتھ گرفتار کیا۔ پھر مرجعیت کے شیطانی لشکر اور مقتدی کے لشکر نے اس جرم کو مکمل کیا، اور پورے عراق میں ہماری عبادت گاہوں کو منہدم کیا اور ہمارے لوگوں کو قتل کیا۔تو چند ہی دن بعد کیا نتیجہ نکلا؟عبد العزیز الحکیم سرطان میں مبتلا ہو گیا، اور یہ آخرت سے پہلے دنیا کا عذاب اور رسوائی تھی۔ اور مقتدی کا لشکر اور مرجعیت کا لشکر آپس میں اس طرح لڑے کہ اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ معاملہ صرف یہ نہیں تھا کہ ایک فریق نے دوسرے کو قتل کیا یا اس پر غلبہ پا لیا، بلکہ پہلے مقتدی کے لشکر نے مرجعیت کے لشکر کے بہت سے افراد کو قتل کیا، پھر حالات بدل گئے اور مرجعیت کے لشکر نے مقتدی کے لشکر کو چُن چُن کر مارا۔کیا یہ سب نشانیاں نہیں ہیں؟ یا پھر اللہ لوگوں کے ایمان لانے کے لیے اور کیا کرے؟ کیا وہ ہر ایک کے سر پر ایک فرشتہ بھیجے جو اسے مارے، اور جب وہ پوچھے کہ مجھے کیوں مارا، تو وہ کہے: اس لیے کہ تم احمد الحسن پر ایمان نہیں لائے؟کیا یہی لوگ چاہتے ہیں؟اللہ بلند و برتر کے سوا نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی قوت۔

امام احمد الحسن(ع) کے پیروکار

امام احمد الحسن(ع) کے پیروکار دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں، جن میں عراق، ایران، پاکستان، کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، مصر، مراکش، الجزائر، تونس، نجد و حجاز (جزیرۂ عرب)، لبنان، چین، آسٹریلیا، کینیڈا، انگلستان، سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک، فرانس، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ارجنٹائن، اور دیگر ممالک شامل ہیں۔آپ(ع) کے پیروکاروں میں شیعوں کے علاوہ اہلِ سنت، عیسائی اور یہودی بھی شامل ہیں، جو اس دعوت پر ایمان لائے۔ ان میں سے اکثر لوگ بیرونِ ملک موجود انصار سے ملاقات کے بعد ایمان لائے، جنہوں نے انہیں اس دعوت سے آگاہ کیا، یا انہوں نے انٹرنیٹ کی ویب سائٹ کا مطالعہ کیا۔ اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے خواب میں رؤیا دیکھی، جس کے بعد وہ ایمان لے آئے، یا ان کے پاس کوئی غیبی دلیل تھی۔

مثال کے طور پر یہ مصر کے ایک عیسائی شخص کا پیغام ہے، جو اس دعوت پر ایمان لایا اور اسے انٹرنیٹ کے ذریعے انصار بھائیوں کو بھیجا:

نام: عمانوئيل روفائيل

ملک: مصر

پیغام کا متن: ((منقذ کے نمائندہ محترم، میرے پاس آپ کے لیے ایک پیغام ہے، جو 322 سال پہلے اسقف سرخیس میخا المعمدان نے لکھا تھا۔ وہ محفوظ اور مہر بند ہے، اگرچہ میں اس کے رازوں کو حل نہیں کر سکا، لیکن اس میں آپ کا نام واضح ہے۔ براہِ کرم مجھے مناسب پتے سے آگاہ فرمائیں۔ میری طرف سے احترام کے ساتھ))

عمانوئيل

دعوت کی سرگرمیوں کی مالی اعانت کا ذریعہ

ہماری مالی اعانت ظاہر ہے، مخفی اعانت نہیں جسے کوئی نہ جانتا ہو؛ دعوت کے ادارے شرعی حقوق، جیسے خمس، اور بعض کریم انصار کے عطیات سے چلتے ہیں، اللہ انہیں جزائے خیر دے، جو اپنے ذاتی اموال سے سخاوت کے ساتھ دعوت کے اداروں کی مدد کے لیے عطیہ دیتے ہیں، خواہ وہ دعوتی اور علمی ادارے ہوں، جیسے حوزہ، معہد الدراسات، سیٹلائٹ چینل اور ریڈیو اسٹیشنز، یا یتیموں کی سرپرستی کی انجمنیں ہوں، یا فلاحی ادارے۔

عمومی طور پر دعوت کے اداروں کو اکثر مالی کمی کا سامنا رہتا ہے، یہاں تک کہ کبھی انہیں قرض لینا پڑتا ہے تاکہ مثلاً چینل کی سیٹلائٹ نشریات کے اخراجات ادا کر سکیں؛ یہ اس کے باوجود ہے کہ دعوت کے ادارے سادہ ہیں اور انہیں بڑی مالی اعانت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

امام احمد الحسن(ع)کی امام مہدی محمد بن الحسن العسکری(ع) سے ملاقات کا واقعہ

امام احمد الحسن(ع) اپنی ایک خطبہ میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“اس دنیا کی زندگی میں امام ہادی(ع) اور امام عسکری(ع)کے روضۂ مبارک میں میری پہلی ملاقات امام مہدی(ع) سے ہوئی۔ اسی ملاقات میں مجھے امام مہدی(ع) کی معرفت حاصل ہوئی۔ یہ ملاقات بہت سال پہلے ہوئی تھی۔اس ملاقات کے بعد میری آپ(ع) سے مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ آپ(ع) نے میرے لیے بہت سے امور کو واضح فرمایا، لیکن آپ(ع) نے مجھے کسی خاص جماعت یا کسی معین شخص تک کوئی پیغام پہنچانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ آپ(ع) کی ہدایات میرے ہی لیے تھیں، جو میری تربیت کرتی تھیں اور مجھے الٰہی اخلاقِ حسنہ کی طرف لے جاتی تھیں۔اس زمانے میں آپ(ع) نے اپنے فضل سے مجھے کچھ علم اور معرفت بھی عطا فرمائی، اور نجف کے حوزۂ علمیہ میں موجود بڑی بڑی انحرافات سے مجھے آگاہ فرمایا، خواہ وہ علمی انحرافات ہوں، یا عملی، سماجی، معاشی اور سیاسی انحرافات، یا ایسے افراد کی انحرافات جو اس حوزۂ علمیہ کی نمایاں شخصیات شمار ہوتے تھے۔

اور یہ مرحلہ میرے لیے نہایت دردناک تھا، کیونکہ یہ اس آخری قلعے کے منہدم ہو جانے کے مترادف تھا جسے میں دنیا میں حق کا نمائندہ سمجھتا تھا۔ میرے نزدیک یہ نمک کے فاسد ہو جانے کی مانند تھا، حالانکہ ہر فاسد چیز کی اصلاح نمک سے ہوتی ہے، لیکن اگر نمک ہی فاسد ہو جائے تو؟!یہ مرحلہ ایک ہی وقت میں میرے لیے دردناک، غم انگیز اور نہایت صدمہ خیز تھا۔ امام(ع) نے میرے لیے فساد اور ظلم کو واضح فرما دیا، لیکن مجھے راستے کے کنارے کھڑا چھوڑ دیا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کیا کروں؟ کیا جہاں سے آیا تھا، وہیں واپس چلا جاؤں؟! یہ ایک ایسا سوال تھا جو میں ہمیشہ اپنے آپ سے کرتا رہتا تھا۔

اور جواب ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ جب حق کو پہچان لینے کے بعد میں اہلِ دین اور نجف کے حوزۂ علمیہ میں اجنبی ہو گیا ہوں، تو پھر اہلِ دنیا کے درمیان اس سے بھی زیادہ اجنبی کیوں نہ ہوں؟

بہرحال، دن اور مہینے گزرتے رہے، پھر اللہ نے چاہا کہ میری دوبارہ امام(ع) سے ملاقات ہو۔ اس مرتبہ امام(ع) نے مجھے نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ کی طرف بھیجا، تاکہ جن امور سے آپ(ع) نے مجھے آگاہ فرمایا تھا، انہیں حوزۂ علمیہ کے طالب علم کے ایک گروہ کے سامنے پیش کروں۔

میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس ملاقات کا ذکر، اگرچہ اجمالاً اور اختصار کے ساتھ، کروں ، کیونکہ یہ میری زندگی میں ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے کہ یہ پہلی مرتبہ تھا جب امام مہدی(ع) نے مجھے نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ میں علانیہ اور براہِ راست اقدام کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اس پر ہزاروں درود و سلام ہوں۔

یہ ملاقات اس طرح ہوئی کہ ایک رات میں سویا ہوا تھا، تو خواب میں دیکھا کہ امام مہدی(ع)، امام عسکری(ع) کے بھائی سید محمد(ع) کے روضے کے قریب کھڑے ہیں، اور آپ(ع) نے مجھے اپنے ساتھ ملاقات کے لیے حاضر ہونے کا حکم فرمایا۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی، اور رات کے دو بجے تھے۔ میں نے نمازِ شب کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر دوبارہ سو گیا۔ اس کے بعد میں نے ایک دوسرا خواب دیکھا، جو پہلے خواب سے ملتا جلتا تھا، اور اس میں بھی امام مہدی(ع) نے میرے ساتھ ملاقات کا وقت مقرر فرمایا۔ پھر میری آنکھ کھلی، اور رات کے چار بجے تھے۔ میں نے نمازِ شب مکمل کی، اور نمازِ فجر ادا کی۔ان خوابوں کے دو دن بعد میں سامراء گیا، اور امام عسکری(ع) اور امام ہادی(ع) کی زیارت کی۔ پھر بلد گیا، اور امام محمد(ع) کی زیارت کی۔ اس کے بعد بغداد گیا، اور امام کاظم(ع) اور امام جواد(ع) کی زیارت کی۔ پھر کربلا گیا، اور امام حسین(ع) اور شہداء(ع) کی زیارت کی۔  اسی رات میری امام مہدی(ع) سے امام حسین(ع) کے روضۂ مبارک میں ملاقات ہوئی، پھر اگلے دن صبح کے وقت شارعِ سدرہ کے آخر میں واقع مقامِ امام مہدی(ع) میں دوبارہ آپ(ع) سے ملاقات ہوئی۔ہم دونوں مقام میں تنہا بیٹھے، جو خادم کے سوا بالکل خالی تھا۔ خادم خواتین کی نماز کی جگہ پر کھڑا تھا، جو اس جگہ سے تقریباً الگ تھی جہاں ہم موجود تھے۔ بہرحال، یہ شعبان سن 1420 ہجری قمری(دسمبر سن 1999) کی تیس تاریخ تھی۔

پھر اس ملاقات کے بعد میں اپنے گھر واپس آ گیا، اور اللہ کے فضل سے ماہِ رمضان کے روزے رکھے۔ رمضان کے آخر میں میں نجف روانہ ہوا، اور جس حق کی مجھے معرفت ہوئی تھی، اسے بیان کرنا شروع کر دیا۔

میرے اور حوزۂ علمیہ کے بعض طالب علموں کے درمیان سخت بحث و مباحثہ ہونے لگا۔ نتیجتاً بعض کے ساتھ میرا تعلق منقطع ہو گیا، اور بعض کے ساتھ مکمل اختلاف پیدا ہو گیا، جبکہ بعض نے میری تائید تو کی، لیکن میری نصرت نہیں کی۔دن اور مہینے گزرتے رہے، بلکہ تقریباً تین سال گزر گئے، اور حوزۂ علمیہ کے طالب علموں میں میرا کوئی مددگار اور معاون نہ تھا۔ البتہ بعض لوگوں نے میری بات قبول کی، اور حوزۂ علمیہ میں موجود مالی فساد کے بارے میں میری بات سے اتفاق کیا۔ اسی سے اس مالی فساد کی اصلاح کی تحریک کا آغاز ہوا، لیکن اس کے نتیجے میں کوئی حقیقی اصلاح نہ ہو سکی، بلکہ بعض مراجع کی مالی پالیسی میں معمولی سی تبدیلی آئی، جو تقریباً قابلِ ذکر بھی نہ تھی۔

دوسری طرف ان میں سے بہت سے علماء اور ان سے وابستہ افراد کی آسائش اور عیش و عشرت بدستور برقرار رہی، جبکہ اس کے مقابلے میں ایک غریب معاشرہ بھوک، جسمانی بیماریوں اور روحانی بیماریوں کے بوجھ تلے تڑپ رہا تھا، اور ان میں سے کوئی بھی اس نہایت افسوسناک صورتِ حال کو بدلنے کے لیے عملی اقدام نہیں کر رہا تھا۔

چند ہی مہینوں بعد امام مہدی(ع) کے ساتھ میرے تعلق، اور اس بات کے اعلان و اظہار کا مرحلہ شروع ہوا کہ میں آپ(ع) کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ یہ صرف میری طرف سے کیا جانے والا اعلان نہیں تھا، بلکہ حوزۂ علمیہ کے ایک گروہ نے آسمانوں کے ملکوت میں ایسے مشاہدات کیے اور ایسی چیزیں دیکھیں اور سنیں جن سے ان کے لیے اس بات کی تصدیق ہو گئی۔ ان میں بعض ایسے تھے جن کا مجھ سے براہِ راست رابطہ تھا، اور بعض ایسے بھی تھے جن کا مجھ سے سرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان طالب علموں میں سے ایک جماعت نے اصرار کیا کہ وہ میری بیعت کرے، حالانکہ میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ یہ معاملہ بہت دشوار ہے، اور آخرکار وہ مجھے اسی طرح چھوڑ دیں گے جیسے اہلِ کوفہ نے حضرت مسلم بن عقیل(ع) کو چھوڑ دیا تھا۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے بیعت کی، اور خود یہ اعلان کیا کہ وہ اپنی جان، مال اور اولاد تک میرے لیے قربان کر دیں گے۔ یہ ان کا اپنا اظہار تھا، میں نے ان سے اس قسم کی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔یہ جمادی الاول سن 1423 ہجری قمری (مطابق سن 2002ء) کا واقعہ تھا۔

اس کے بعد حوزۂ علمیہ کے بہت سے طالب علموں نے میری بیعت کی، لیکن پھر ان پر خوف طاری ہو گیا، کیونکہ صدامِ ملعون کی سکیورٹی فورسز میری طرف پیش قدمی کرنے لگیں۔ چنانچہ وہ لوگ منتشر ہو گئے اور اپنی بیعت توڑ دی۔پھر ہر شخص، یا ہر گروہ، اپنی بیعت توڑنے کے لیے میرے خلاف کوئی نہ کوئی الزام تراشنے لگا، لیکن آخرکار سب دو باتوں پر متفق ہو گئے: اول: انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگایا کہ میں بہت بڑا جادوگر ہوں۔

دوم: انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگایا کہ میرے قبضے میں جنات کی سلطنتیں ہیں، اور میں انہیں لوگوں پر غلبہ پانے کے لیے اپنے تابع رکھتا ہوں۔

پھر میں دوبارہ اپنے گھر واپس آ گیا، جب لوگ منتشر ہو گئے تھے، اور حوزۂ علمیہ کے چند طالب علموں اور چند مؤمنین کے سوا کوئی میرے ساتھ باقی نہ رہا۔پھر اسی سال، یعنی جمادی الاول سن 1424 ہجری قمری (مطابق سن 2003) میں، ان مؤمنین میں سے ایک جماعت میرے پاس آئی، انہوں نے مجھ سے دوبارہ بیعت کی، اور مجھے میرے گھر سے باہر لے آئے، اور اس طرح دعوت کا آغاز ایک بار پھر ہوا۔اسی سال، یعنی سن 1424 ہجری قمری کے ماہِ رمضان کے آخری دو دنوں میں، امام مہدی(ع) نے مجھے حکم فرمایا کہ میں تمام اہلِ زمین سے خطاب کرنا شروع کروں، اور ہر ایک سے اس کی حالت کے مطابق، اور ان احکام کے مطابق جو امام مہدی(ع) کی طرف سے صادر ہوتے ہیں۔پھر شوال کی تین تاریخ کو امام مہدی(ع) نے مجھے ظالموں کے خلاف انقلاب کا اعلان کرنے، اور تیزی کے ساتھ اقدامات کرنے اور عمل شروع کرنے کا حکم دیا۔

چنانچہ میں نے لوگوں کو حق اور اہلِ حق کی نصرت، حق کے قیام، اور لا إله إلا الله کے کلمے کو سربلند کرنے کی دعوت دی، کیونکہ اللہ کا کلمہ ہی سب سے بلند ہے، اللہ کا کلمہ ہی سب سے بلند ہے، اللہ کا کلمہ ہی سب سے بلند ہے، اور کافروں کا کلمہ ہی پست ہے۔(اور اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔)

تو کیا اللہ کے دین کا کوئی مددگار ہے؟ کیا قرآن کا کوئی مددگار ہے؟ کیا اللہ کے ولی کا کوئی مددگار ہے؟ کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کوئی مددگار ہے؟(اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے، جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ضرور انہیں زمین میں خلافت عطا کرے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلافت عطا کی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور جو اس کے بعد بھی کفر کرے، تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔) (سورۂ نور: 55)

امام احمد الحسن(ع) کا خطبۂ حج میں لوگوں کی بیعت کے بارے میں ارشاد

“میں نے ابتدا میں اپنے لیے بیعت کا مطالبہ نہیں کیا۔ بلکہ طاغیہ صدام کے دور میں یہ ہوا کہ نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ کے ایک گروہ نے، اپنے مشاہدات، مکاشفات اور معجزات کے بعد، اس بنیاد پر کہ میں امام مہدی(ع) کا رسول ہوں، میری بیعت کرنے کا فیصلہ کیا۔ پھر انہی لوگوں نے نجف کے حوزۂ علمیہ کے باقی طالب علموں سے بھی میری بیعت لینے کی کوشش کی۔ اللہ جانتا ہے، اور وہ خود بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ یہی پہلی بیعت تھی۔پھر لوگوں کی اکثریت مرتد ہو گئی، سوائے ان چند لوگوں کے جنہوں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے عہد کو پورا کیا۔ اور جو لوگ مرتد ہوئے، وہ کہنے لگے کہ رؤیا اور مکاشفات جنات کی طرف سے ہیں، اور معجزات جادو ہیں۔ پہلے وہ مجھے صادق اور امین کہتے تھے، پھر وہی مجھے جادوگر اور جھوٹا کہنے لگے۔اس کے بعد میں اپنے گھر واپس آ گیا، اور رات اور دن سکون کے ساتھ اپنے محبوبِ حقیقی، اللہ سبحانہ وتعالیٰ، کی اُنس میں زندگی گزارتا رہا، اس کے فیصلے اور تقدیر پر راضی، صبر کرنے والا، اور اس بات پر یقین رکھنے والا کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

پھر طاغیہ (صدام)کے سقوط کے بعد اللہ نے چاہا کہ وہ چند لوگ، جنہوں نے اللہ کے عہد کو پورا کیا تھا، ازسرِنو لوگوں کو دعوت دینا شروع کریں، حالانکہ نہ میں نے انہیں اس کی رہنمائی کی تھی اور نہ ہی اس کی دعوت دی تھی، بلکہ اس وقت میری ان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔پھر وہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھ سے دوبارہ بیعت کی، اور مجھے میرے گھر سے باہر لے آئے۔ یہ دوسری بیعت تھی۔ پھر دعوت پھیلتی گئی، اور مؤمنین کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی۔اس کے بعد حیدر مشتت اور اس کے گروہ نے ارتداد اختیار کیا، تو پھر اللہ کے عہد پر صرف وہی چند لوگ باقی رہے جنہوں نے اپنے عہد کو پورا کیا۔ میں دوبارہ اپنے گھر واپس آ گیا، اپنے محبوبِ حقیقی، اللہ سبحانہ وتعالیٰ، کی اُنس میں، اس کی آزمائشِ کریمانہ پر صبر کرتے ہوئے۔ اور میں نے کسی کو اپنی بیعت کے لیے نہیں بلایا۔لیکن اللہ نے چاہا کہ وہ لوگ میرے پاس آئیں جنہیں اس نے آلِ محمد(ع) کی ولایت کے ذریعے پاکیزہ کیا ہے، اور جنہیں دنیا کی تخلیق سے پہلے ہی قائمِ آلِ محمد(ع) کی نصرت کے لیے منتخب کیا تھا۔ انہوں نے آ کر دوبارہ بیعت کی، اور یہ تیسری بیعت تھی، اس کے بعد کہ میرے سر پر دو مرتبہ ضرب لگائی گئی۔پس تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے ذوالقرنین سے مشابہت عطا کی، اور مجھے امیر المؤمنین علی(ع) سے بھی مشابہت عطا کی۔ اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے ایسا نہیں بنایا کہ میں امامت کا طلبگار بنوں، بلکہ امامت کو میرا طلبگار بنا دیا۔ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دنیا طلب کرنے والا نہیں بنایا، بلکہ دنیا کو میرا طلبگار بنا دیا۔پس اللہ کی قسم! میں نے نہ حکومت طلب کی، نہ اقتدار، نہ کوئی مقام، نہ کوئی منصب، اور نہ ہی لوگوں کی اپنی اطاعت اور اپنے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی خواہش کی، مگر صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور امام مہدی (ع) کے حکم سے۔

دعوت کی سرگرمیوں کی مالی اعانت کا ذریعہ

“لوگوں میں سے جو شخص میرے دل کو سب سے زیادہ عزیز تھا، وہ میری والدہ تھیں، جن سے اس دعوت سے پہلے میں ایک دن کے لیے بھی جدا نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس دعوت کی وجہ سے مجھے ان سے جدا ہونا پڑا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، جبکہ میں ان سے دور تھا، اور میں ان سے آخری ملاقات بھی نہ کر سکا۔ تو کیا دنیا طلب کرنے والا ایسا دشوار اور وحشت بھرا راستہ اختیار کرتا ہے، اور درد و غم کے گھونٹ پیتا ہے؟”

— امام احمد الحسن(ع)

امام احمد الحسن(ع) سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ممکن ہے آپ دنیا کے طالب ہوں؟ تو آپ(ع) نے جواب میں فرمایا:

“…لیکن مثال کے طور پر، میں دنیا کیسے طلب کر سکتا ہوں؟میں نہیں سمجھتا کہ جو شخص عزت و جاہ کا طالب ہو، وہ ایسا راستہ اختیار کرتا ہے جیسا میں نے اختیار کیا۔ دعوت سے پہلے بھی میں گوشہ نشین تھا، اور اب تو اس سے بھی زیادہ گوشہ نشین ہوں، اور میں اور میرے اہل و عیال اللہ کی زمین میں بے گھر اور دربدر ہیں، جس طرح طاغوتوں نے میرے آباء، ائمہ(ع)، کے ساتھ کیا تھا۔ اور وہی میرے لیے بہترین نمونہ ہیں، کیونکہ حق اپنے ماننے والے کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کسی دوست کو باقی نہیں رہنے دیتا۔اور لوگوں میں سے جو شخص میرے دل کو سب سے زیادہ عزیز تھا، وہ میری والدہ تھیں، جن سے اس دعوت سے پہلے میں ایک دن کے لیے بھی جدا نہیں ہوا تھا۔ لیکن مجھے ان سے جدا ہونا پڑا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، جبکہ میں ان سے دور تھا، اور میں ان سے آخری ملاقات بھی نہ کر سکا۔ تو کیا دنیا طلب کرنے والا ایسا دشوار اور وحشت بھرا راستہ اختیار کرتا ہے، اور درد و غم کے گھونٹ پیتا ہے؟

اور میں نہیں سمجھتا کہ جو شخص مال کا طالب ہو، وہ ہر شہر میں مؤمنین کے لیے بیت المال قائم کرتا ہے، اس کے حسابات کا ایک باقاعدہ نظام بناتا ہے، اور آمد و خرچ کے معلوم و متعین مصارف مقرر کرتا ہے، اس طرح کہ بیت المال میں آنے والی ہر رقم بھی درج کی جاتی ہے، اور اس سے نکلنے والی ہر رقم بھی درج کی جاتی ہے۔

اور خمس وصول کرنے کے مجاز وکلاء بھی معروف ہیں، جیسے سید حسن الحمامی اور شیخ صادق المحمدی۔ وہ نہ وہ مال میرے پاس بھیجتے ہیں، اور نہ خود اپنے لیے لیتے ہیں، بلکہ اسے بیت المال کے حوالے کر دیتے ہیں، اور بیت المال اسے فقراء، مساکین، یتیموں، بیواؤں، طالب علموں اور دیگر مستحقین میں تقسیم کرتا ہے، بلکہ ان لوگوں میں بھی جو اس دعوت پر ایمان نہیں رکھتے۔اور میرے پاس روزمرہ کے اخراجاتِ زندگی اور اس مکان کے کرائے سے، جس میں میں اپنے اہل و عیال کو رہائش دیتا ہوں، زائد کوئی ذاتی مال نہیں ہے۔

ہاں، میری ملکیت میں صرف ایک چھوٹا سا زرعی قطعۂ زمین تھا، جسے میں نے نجف کے مضافات میں اس لیے خریدا تھا کہ وہاں رہائش اختیار کروں۔ میں نے اس پر ایک نہایت چھوٹا سا گھر تعمیر کیا، تاکہ فقراء کے ساتھ ہمدردی اور مواسات کا اظہار ہو، اور میں نے کہا: جب تک میں عراق میں رہوں گا، اسی طرح زندگی گزاروں گا جیسے یہاں کے غریب لوگ گزارتے ہیں۔اور شاید وقت بدل جائے، اور ایک دن تم یہ گھر بھی دیکھو۔جس رقم سے میں نے وہ زمین خریدی، اس کا ایک حصہ میرے بڑے بھائی، اللہ انہیں محفوظ رکھے، نے مجھے ہدیہ کیا تھا، اور دوسرا حصہ میں نے اپنے ایک دوست سے قرض لیا تھا، جو دعوتِ حق پر ایمان رکھنے والوں میں سے تھے، یعنی شیخ ابو محمد الزیادی، اللہ انہیں محفوظ رکھے۔ پھر میں نے اس زمین میں کاشت کرنے کے بعد اس کی آمدنی سے وہ قرض ادا کر دیا۔جب شیخ ابو محمد نے بعض انصار کی موجودگی میں وہ رقم میرے حوالے کی، تو ان کرنسی نوٹوں پر “فدک” کی مہر لگی ہوئی تھی۔ اسی دن انہوں نے مجھے کتاب الغیبۃ بھی ہدیہ کی، جس پر بھی “فدک” کی مہر ثبت تھی۔تو میں نے کہا: سبحان اللہ! یہ ایسی نشانیاں ہیں جو ایک کے بعد ایک ظاہر ہو رہی ہیں۔اس واقعے کے گواہ انصار کی ایک جماعت ہے، اللہ انہیں محفوظ رکھے، جن میں شیخ ابو محمد الزیادی، شیخ ابو حسن الزیادی، اور شیخ ابو حسین شامل ہیں۔بہرحال، سن 2007 میں میں، میری زوجہ اور میرے بچے، مرجعیت کے حامی فوجی دستوں کے اس زمین پر حملہ کرنے سے چند گھنٹے پہلے وہاں سے نکل گئے۔ یہ حملہ مرجعیت کے اکسانے پر کیا گیا تھا۔جب وہ مجھے وہاں نہ پا سکے تو انہوں نے اس زمین پر قبضہ کر لیا، اور اس پر پہرہ(محافظ) بٹھا دیا۔ کچھ عرصے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔وہ زمین فدک سے کتنی مشابہ تھی، اور ان کا یہ قبیح عمل اس فعل سے کتنا مشابہ تھا جو ان لوگوں نے میری والدہ حضرت فاطمہ زہرا(ع) کے گھر پر کیا تھا۔سن 2007 سے مجھے اس زمین کے بارے میں کوئی خبر نہ تھی، یہاں تک کہ چنددن پہلے ایک مؤمن، یعنی شیخ ابو حسن، اور نجف کے بعض قبائلی شیوخ، اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، جنہوں نے اس زمین کو واپس دلانے کی کوشش کی۔ اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میرے لیے میری والدہ حضرت فاطمہ زہرا(ع) اور میرے والد امیر المؤمنین علی(ع) کو نمونۂ عمل بنایا۔

(ہاں، ہمارے پاس فدک تھا، ہر اس چیز میں سے جس پر آسمان سایہ کیے ہوئے ہے۔ پھر ایک گروہ نے اس پر بخل سے کام لیا، اور دوسرے گروہ نے اسے فراخ دلی سے چھوڑ دیا۔ اور اللہ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔مجھے فدک سے، یا فدک کے علاوہ کسی اور چیز سے کیا سروکار؟ جبکہ کل انسان کا ٹھکانا قبر ہے، جہاں اس کے آثار اس کی تاریکی میں مٹ جاتے ہیں، اور اس کی خبریں ختم ہو جاتی ہیں۔وہ ایسی قبر ہے کہ اگر اس کی وسعت بڑھا بھی دی جائے، اور قبر کھودنے والے کے ہاتھ اسے مزید کشادہ بھی کر دیں، تب بھی پتھر اور مٹی اسے دبا دیں گے، اور جمع شدہ مٹی اس کے تمام شگاف بھر دے گی۔میں تو صرف اپنے نفس کو تقویٰ کے ذریعے قابو میں رکھتا ہوں، تاکہ وہ بڑے خوف کے دن امن میں رہے، اور لغزش گاہوں پر ثابت قدم رہے۔)

ممکن ہے بعض لوگ دنیا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے چاہتے ہوں، لیکن میری تو اس دعوت سے پہلے صرف ایک ہی زوجہ سے شادی ہوئی تھی، اور وہی میرے بچوں کی والدہ ہیں۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ان کے سوا کسی اور عورت کو نہیں جانا، نہ دائمی نکاح کے ذریعے اور نہ ہی منقطع نکاح کے ذریعے۔ تو پھر اس میں دنیا طلبی کہاں ہے؟!اور میں، اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس ‘میں’ کہنے سے، آج بھی جب بعض انصار کے ساتھ ہوتا ہوں اور کھانا پکانے کی ضرورت پیش آتی ہے، تو میں خود کھانا پکاتا ہوں، اور جب برتن دھونے کی ضرورت ہوتی ہے، تو میں اپنے ہاتھ سے برتن دھوتا ہوں، حالانکہ وہ میری خدمت کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں ان کی خدمت کو اپنے لیے باعثِ شرف سمجھتا ہوں۔ تو کیا دنیا کا طالب اس طرح کا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے؟!اور میں، اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس ‘میں’ کہنے سے، اپنے گھر کی ضروریات خود بازار جا کر خریدتا ہوں۔ میرے پاس نہ کوئی مسلح محافظ ہے اور نہ غیر مسلح، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے امن عطا فرمایا اور مجھے ان کا محتاج نہیں بنایا۔میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی میرا ہاتھ چومے، اور نہ ہی میں اپنا ہاتھ لوگوں کے آگے بڑھاتا ہوں کہ وہ اسے چومیں، جیسا کہ بعض مراجع اور ان کے بعض وکلاء کرتے ہیں۔یہ سب حقائق ہیں جنہیں پہلے انصار نے دیکھا ہے، اور اب بھی انصار میں سے بعض لوگ میرے قریب ہیں اور ان باتوں سے واقف ہیں۔ یعنی یہ کوئی پوشیدہ امور نہیں، بلکہ ماضی اور حال میں بہت سے لوگوں نے انہیں دیکھا ہے۔تو وہ دنیا کہاں ہے جسے میں طلب کرتا ہوں؟! اور میں نے اسے کیسے طلب کیا؟ اور کس چیز کے ذریعے طلب کیا؟ اللہ تمہاری اصلاح کرے۔روایات میں آیا ہے کہ کسی کا ہاتھ نہ چوما جائے، سوائے کسی نبی یا وصی کے ہاتھ کے۔ تو کیا یہ معقول ہے کہ جو لوگ نہ نبی ہیں اور نہ وصی، اور اپنے ہاتھ لوگوں کے آگے بڑھاتے ہیں تاکہ وہ انہیں چومیں، وہ آخرت کے طالب ہوں؟! اور احمد الحسن، جو وصی ہونے کے باوجود اس بات سے انکار کرتا ہے کہ کوئی اس کا ہاتھ چومے، وہ دنیا کا طالب ہو؟!اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کہتا کہ تم نے احمد الحسن کے ساتھ انصاف نہیں کیا، بلکہ میں کہتا ہوں کہ تم نے اپنی عقلوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا، اگر تم اسی طرح سوچتے اور فیصلے کرتے ہو۔

اپنے اوپر رحم کرو، اللہ تم پر رحم کرے۔ یہ لوگ، جو تم پر تقلید کو واجب قرار دیتے ہیں، مرغیوں اور جائیدادوں کے تاجر ہیں، خواہشاتِ نفس کے پیروکار ہیں، آخرت کے طالب نہیں ہیں، اور ان کا آخرت سے کوئی تعلق نہیں۔ اور تم خود بھی یہ جانتے ہو، اور عراق میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو۔اور تم، جو بیرونِ ملک ہو، دیکھتے ہو کہ وہ اپنے بیٹوں کو خمس اور دیگر اموال جمع کرنے کے لیے تمہارے پاس بھیجتے ہیں، اور تبلیغ کے بہانے مغربی ممالک میں عیش و آرام کے چند دن گزارنے کے لیے۔ کاش! تم ان سے پوچھو کہ وہ نجف کے حوزۂ علمیہ کے دوسرے طالب علموں کو مغربی ممالک کیوں نہیں بھیجتے؟ ان کے دفاتر ان کے اپنے بیٹے ہی کیوں چلاتے ہیں؟ اور وہ اموال میں جیسے چاہیں تصرف کیوں کرتے ہیں، جبکہ ان پر نہ کوئی نگران ہوتا ہے، نہ کوئی نظام، نہ حسابات، اور نہ ہی کوئی نگرانی؟ اپنے اوپر رحم کرو، اللہ تم پر رحم کرے، اور حق و باطل میں تمیز کرنے اور حقیقت کو پہچاننے کے لیے اپنی عقلوں سے کام لو، کیونکہ دنیا کے طالبوں کو تم ان کے رویوں، ان کے طرزِ عمل اور ان کے افعال سے پہچان سکتے ہو۔اختتام۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے